متحدہ عرب امارات میں 28 اگست کو “اماراتی خواتین کا دن” منایا جائے گا

دبئی ۔(ہمیشہ پاکستان) متحدہ عرب امارات میں کل 28 اگست کو “اماراتی خواتین کا دن” منایا جائے گا۔وام کے مطابق رواں سال اس تقریب کا عنوان “ہاتھ میں ہاتھ، ہم 50 سال کا جشن منا رہے ہیں” رکھا گیا ہے، جو جنرل ویمنز یونین کی پچاسویں سالگرہ کی مناسبت سے ہے۔ یہ عنوان نہ صرف معاشرتی شراکت داری کی علامت ہے بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ خواتین کی ترقی کا عمل متحدہ عرب امارات میں گزشتہ نصف صدی سے مسلسل جاری ہے۔

یہ دن ہر سال اس مقصد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ خواتین کی خدمات اور کامیابیوں کو تسلیم کیا جائے۔ اس حوالے سے منعقد تقریبات کے پس منظر میں یہ پہلو اجاگر کیا جا رہا ہے کہ قومی ترقی میں خواتین کا کردار صرف انفرادی کامیابیوں تک محدود نہیں بلکہ سماج کے ہر طبقے کے ساتھ اشتراک عمل کے ذریعے ایک اجتماعی سفر ہے۔ اس موقع پر اماراتی خواتین کی تحریک کی بنیاد رکھنے والی ام الامارات شیخہ فاطمہ بنت مبارک کوخراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ جنرل ویمنز یونین کی سربراہ اور متعدد قومی اداروں کی سرپرست کی حیثیت سے انہوں نے نصف صدی قبل ایسی بنیاد رکھی جس میں جدیدیت اور روایتی عرب و اسلامی اقدار کا حسین امتزاج شامل تھا۔

اس حوالے سے جنرل ویمنز یونین کی سیکرٹر ی جنرل نورہ خلیفہ السویدی نے کہا کہ یہ دن دراصل خواتین کی ان قربانیوں اور کامیابیوں کو یاد کرنے کا موقع ہے جو انہوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں ادا کی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خواتین نے پچاس برسوں میں یہ ثابت کیا کہ وہ قیادت، خدمت اور قربانی کے ہر میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ دن اماراتی قیادت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت خواتین کو بااختیار بنانا پائیدار ترقی اور خوشحال معاشرے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

نورہ خلیفہ السویدی نے کہاکہ شیخہ فاطمہ کی مسلسل کوششوں نے خواتین کو سماجی، تعلیمی اور اقتصادی میدانوں میں نہ صرف فعال کردار دیا بلکہ اداروں اور سماج کے درمیان ایسے تعاون کو بھی فروغ دیا جو خواتین کے مقام کو مزید مستحکم بناتا ہے۔اماراتی خواتین کی نصف صدی کی خدمات کے اعتراف میں عالمی اداروں نے بھی ان کی پذیرائی کی۔

سال 2025 میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے صنفی مساوات انڈیکس میں متحدہ عرب امارات دنیا بھر میں 13ویں اور خطے میں پہلی پوزیشن پر رہا۔اہم اقدامات میں 2018 میں مساوی اجرت کے قانون اور 2021 میں نجی شعبے میں لیبر تعلقات کے قانون شامل ہیں جن کے تحت مساوی کام پر مساوی اجرت کو یقینی بنایا گیا۔اسی تسلسل میں 2023 تا 2031 کی قومی حکمتِ عملی برائے خواتین کا آغاز ہوا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ وفاقی نیشنل کونسل میں خواتین کی نشستیں پچاس فیصد ہیں، جب کہ کابینہ میں 26 فیصد وزارتیں خواتین کے پاس ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق خواتین اب ملک کے سرکاری و نجی شعبے میں 71 فیصد کی نمائندگی رکھتی ہیں، وفاقی حکومت میں قیادت کے 63 فیصد عہدوں پر فائز ہیں اور 13 فیصد سفارت کار خواتین ہیں۔اماراتی خواتین نے کاروبار کے شعبے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اعداد کے مطابق پچیس ہزار سے زائد خواتین کاروباری شخصیات پچاس ہزار تجارتی لائسنس رکھتی ہیں اور ان کی سرمایہ کاری ساٹھ ارب درہم سے زیادہ ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی خواتین نے اپنی موجودگی منوائی ہے۔ ملک میں 46 فیصد ایس ٹی ای ایم گریجویٹس خواتین ہیں جب کہ خلائی شعبے میں قومی افرادی قوت کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔متحدہ عرب امارات نے خواتین کے حقوق کے فروغ کو صرف ملکی سطح تک محدود نہیں رکھا بلکہ عالمی سطح پر بھی کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔

ان میں “شیخہ فاطمہ بنت مبارک ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی انیشی ایٹو”، “عرب ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ آبزرویٹری” اور “افریقہ میں دیہی خواتین کو زرعی شعبے میں بااختیار بنانے کی اسکیم” شامل ہیں۔یہ تمام اقدامات اس حقیقت کے عکاس ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے خواتین کو نہ صرف اپنی ترقی کی بنیاد بنایا بلکہ انہیں دنیا بھر میں امن، ترقی اور مکالمے کے فروغ کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں